احمد سبحانی آکاش ۔۔۔ بدن تو ایک حوالے کا ہے نشان میاں

بدن تو ایک حوالے کا ہے نشان میاں
فصیلِ جِسم سے آگے کئی جہان میاں

خود آشنائی کی خواہش ہے نقطۂ آغاز
بہت قدیم نہیں اپنی داستان میاں

فضا بدلنے پہ قدرت بھی ہاتھ آئے گی
ہوئے جو دوست چراغ اور سائبان میاں

کسی مدار کی رنگینیوں میں شامل ہے
کشش کی دھار پہ چلتا یہ خاک دان میاں

نظر میں تاب کہاں اُس کو دیکھنے کے لیے
یہ دل ہے جس کی تجلی کا راز دان میاں

پڑی دراڑ کہاں اور کہاں لگے جالے!
کبھی خبر ہی نہ لی چھوڑ کر مکان میاں

بڑھا کے فاصلہ دیکھا تو دور سے آکاش
زمیں سے ملتا نظر آیا آسمان میاں

Related posts

Leave a Comment